Imam Ahmad Raza Khan Barelvi Shaksiyat ki Nazar Main

October 12,2018 - Published 1 year ago

 Imam Ahmad Raza Khan Barelvi  Shaksiyat ki Nazar Main

امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشخصیات کی نظر میں

مُعاصَرت، مُنافَرت کا بہت بڑا سبب ہے یعنی ایک ہی زمانہ میں پائے جانے والے ایک ہی شعبے سے وابستہ افراد ایک دوسری کی تعریف کریں یہ کم ہی دیکھنے سننے کو ملتا ہے، امراضِ قلب کا مشہور ڈاکٹر اپنے ہی زمانے کے کسی دوسرے ڈاکٹر کی تعریف کرے، ایک مقرر کسی دوسرے مقرر کی تعریف کرے، ایک مشہور پروفیسر کسی دوسرے پروفیسر کی تعریف کرے، یونہی مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین ایک دوسرے کی تعریف کریں یہ نادِرُ الوُقُوع واقعات میں سے ہے بلکہ اپنے جیسے کسی دوسرے کی تعریف سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ جو خود مقام و مرتبہ اور شہرت رکھتے ہوں ان کے لیے کسی اور کے فن، علمیت، شان اور مقام و مرتبہ کو ماننا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اگر اہل فن، اپنے وقت کے دانشور، مفکر اور شہرت یافتہ افراد کسی کی مدح سرائی کریں تو وہ شخصیت واقعی غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہے اور اس پر خدائے کریم کا خاص فضل و کرم ہوتا ہے۔ امام اہل سنت، امام عشق و محبت، مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو تن تنہا ایک انجمن ہیں، جن کی قابلیت و علمیت اور خدماتِ دین کا اعتراف کرنے والے نہ صرف اپنے بلکہ مخالفین، معاصرین اور بعد والوں کی ایک طویل فہرست ہے، مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا آپ منوانے والے یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار دنیا کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ چنانچہ

شیخ عبد الرحمن دَھَّان مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ

شیخ عبد الرحمن دہان مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: وہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جن کے متعلق مکہ مکرمہ کے علمائے کرام گواہی دے رہے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سرداروں میں یکتا و تنہا ہیں۔ (تمہید الایمان، ص5)

شیخ احمد ابو الخیر عبداللہ میر داد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ

رئیس الخطباء شیخ احمد ابو الخیر عبداللہ میر داد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (خطیب مسجد حرام) فرماتے ہیں: وہ امام احمد رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حقائق کا خزانہ ہے اور محفوظ خزانوں کا انتخاب، معرفت کا آفتاب ہیں جو دوپہر کو چمکتا ہے۔ علوم کی ظاہر و باطن مشکلات کھولنے والے ہیں۔ جو شخص اس کے علم و فضل سے واقف ہو اس کو کہنا چاہئے کہ اگلوں پچھلوں کے لئے بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں۔(تمہید الایمان، ص3)

شیخ علامہ محمد القاسمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ

شیخ علامہ محمد القاسمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: فضائل و کمالات کے ایسے جامع ہیں جن کے سامنے بڑے سے بڑا چھوٹا ہے۔ وہ فضل کے باپ اور بیٹے ہیں۔ ان کی فضیلت کا یقین دوست اور دشمن دونوں کو ہے۔ ان کا علمی مقام بہت بلند ہے۔ لوگوں میں ان کی مثال بہت کم ہے۔(امام احمد رضا اور عالم اسلام، پروفیسر مسعود احمد،ص137)

پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان صاحب:

پاکستان کے مشہور محقق و دانشور پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان صاحب (سابق صدر شعبہ اردو، سندھ یونیورسٹی، سندھ) فرماتے ہیں: اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے دور کے بے مثل علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے فضل و کمال، ذہانت و فطانت کے سامنے بڑے بڑے علماء و فضلاء، یونیورسٹی کے اساتذہ و محققین نظروں میں نہیں جچتے۔(جہانِ رضا ،ص 188)

اخبار پیسہ:

1921ء میں جب امام احمد رضا خان صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا تو لاہور کے مشہور اخبار پیسہ نے ایک تعزیتی نوٹ لکھا جس کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاک و ہند میں امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بڑا چرچا تھا اور سب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علم و فضل کے قائل تھے، ادارہ نگار لکھتا ہے: آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہندوستان میں علوم دینیہ اسلامیہ کے آفتاب تھے بڑے فاضل و متبحر، جید عالم تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی وفات سے ہندوستان کی ایسی برگزیدہ ہستی اٹھ گئی جن کا خلا پر کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ (پیسہ اخبار شمارہ 2، نومبر 1921)۔ دنیاوی دانِشور و فُضَلَابھی امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علم و فضل کے قائل نظر آتے ہیں۔ چنانچہ

پروفیسر غیاث الدین قریشی:

پروفیسر غیاث الدین قریشی (نیو کاسل یونیورسٹی انگلینڈ) لکھتے ہیں: امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے وسیع و عمیق علم کے طفیل اپنی ذات میں ایک اسلامی یونیورسٹی کی بلندیاں جمع کرلی ہیں۔(رئیس الفقہا، ص5)

مولانا محمد علی جوہر:

بابائے اردو مولانا محمد علی جوہر لکھتے ہیں: اس دور کے مشہور عالم دین امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ واقعی ایک عظیم مسلمان رہنما ہیں۔ ہم ان کی عظیم شخصیت اور دینی رہنما ہونے کا اعتراف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اس دور کے سب سے بڑے محقق، مصنف، ادیب اور مردِ حق ہیں۔ بلا شبہ ایسی ہستیوں کا وجود مسعود ہمارے لئے مرہون منت ہے۔(امام احمد رضا خان اکابرین کی نظر میں ص 22)

میاں عبد الرشید:

پاکستان کے نامور صحافی و قلم کار میاں عبد الرشید اپنی انگریزی کتاب پاک و ہند میں اسلام میں لکھتے ہیں: حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ برصغیر کی چند غیر معمولی شخصیات میں سے ایک تھے۔ نہایت ذہین، متقی اور فقہ اسلام کے ماہر ہیں۔ ان کا علم ہمہ گیر ہے۔)پاک و ہند میں اسلام مطبوعہ لاہور1977)

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال:

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی علمیت و فقاہت اور قوت فیصلہ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہندوستان کے دورِ آخر میں ان جیسا طباع اور ذہین فقیہ پیدا نہیں ہوا، میں نے ان کے فتاوی سے یہ رائے قائم کی ہے اور ان کے فتاوی ان کی ذہانت، فطانت اور جودتِ طبع، کمال ِفقاہت اور علوم ِدینیہ میں تبحر علمی کے شاہد عادل ہیں۔ مولانا ایک دفعہ جو رائے قائم کر لیتے تھے اس پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے۔ یقیناً وہ اپنی رائے کا اظہار بہت غور و فکر کے بعد کیا کرتے تھے۔

جسٹس محمد دین مرحوم:

جسٹس محمد دین مرحوم (چیف بہاول پور) جب ایک مقدمے کا فیصلہ نہ کرسکے تو مفتیوں سے آٹھ فتوے لئے۔ پھر بھی وہ مطمئن نہ ہوسکے تو انہوں نے ہدایت کی کہ پورا مقدمہ متعلقہ فتووں کی نقول کے ساتھ امام احمد رضا خان صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں پیش کیا جائے اور استدعا کی جاتی ہے کہ جلد عدالت میں بھجوا دیا جائے۔(فتاوی رضویہ ج11/196)

یہ چند مثالیں تھیں اس کے علاوہ عرب وعجم کے مشہور ومعروف علما ومشائخ اور ادبی وسیاسی شخصیات نے نہ صرف آپ کی تعریف کی بلکہ کئیوں نے آپ کے کام کو اپنا موضوع بنا کر پی، ایچ، ڈی مقالہ جات لکھے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ فیضان رضا جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ۔

سیر ت اعلیٰ حضرت کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب حیات اعلیٰ حضرت کا مطالعہ فرمائیں۔

Comments (0)

Security Code